ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس کو نہیں ملا نیا صدر۔فی الحال کانگریس کی عبوری صدر بنی رہیں گی ،سونیا گاندھی6ماہ میں نئے صدر کا انتخاب ہوگا

کانگریس کو نہیں ملا نیا صدر۔فی الحال کانگریس کی عبوری صدر بنی رہیں گی ،سونیا گاندھی6ماہ میں نئے صدر کا انتخاب ہوگا

Tue, 25 Aug 2020 10:51:06    S.O. News Service

نئی دہلی،25؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی)کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی فی الحال پارٹی کی عبوری صدر بنی رہیں گی - سی ڈبلیو سی کے تقریباً7گھنٹے تک چلے اس اجلاس میں اس فیصلے پر اتفاق ہوا ہے کہ سونیا گاندھی فی الحال پارٹی کی عبوری صدر کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائیں گی-یہ طے کیا گیاکہ پارٹی کو6ماہ کہ اندر اپنا نیا صدر منتخب کرنا ہوگا- کانگریس میں قیادت کے بحران کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قیادت کے سوال پر کھلی گفتگو ہوئی-

اس اجلاس کے دوران پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ آگے پارٹی صدر نہیں بنے رہنا چاہتیں - لیکن بہت سے رہنماؤں نے ان سے اس عہدے پر برقرار رہنے کی اپیل کی-اجلاس میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک سال کا وقت دینے کی بات کہی، لیکن راہل اور پرینکا نے6ماہ میں نئے صدر کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی بات کہی-

غور طلب ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سونیا گاندھی نے عبوری صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بارے میں بات کہی تھی، ساتھ ہی انہوں نے پارٹی کو نیا صدر منتخب کرنے کو بھی کہا تھا - تاہم، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اے کے انٹونی سمیت متعدد رہنماؤں نے سونیا گاندھی سے اپنے عہدے پر قائم رہنے کی اپیل کی-اس دوران کانگریس قیادت میں تبدیلی کے بارے میں پارٹی صدر سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط پر ہلچل کے درمیان خط لکھنے والے لیڈروں کے بارے میں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز تنظیم کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سابق صدر راہل گاندھی کے سخت الفاظ کے استعمال کرنے پر پارٹی کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سورجے والا نے کہا کہ راہل گاندھی نے کسی بھی لیڈر کے لئے غلط الفاظ استعمال نہیں کیے ہیں -میڈیا میں غلط اور گمراہ کن معلومات نہ دیں - اس وقت ایک دوسرے سے لڑنے اور ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے اور کانگریس کو نقصان پہنچانے کے بجائے، ہمیں مودی سرکار کی بد عملیوں کے خلاف مل کر لڑنا چاہئے-

کانگریس کے ترجمان کا بیان پارٹی صدر کو خط لکھنے والے لیڈروں میں شامل سینئر لیڈر کپل سبل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ راہل گاندھی کے بی جے پی سے ساز باز کرنے کے الزام سے انہیں شدید تکلیف ہوئی ہے-بتایا جاتا ہے کہ سی ڈبلیو سی اجلاس کے دوران سینئر کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے استعفیٰ کی پیش کی -جبکہ کپل سبل نے ان الزامات کو لے کر ٹویٹ کرکے اپنا درد بیان کیا ہے -

ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے پارٹی سے متعلق معاملات کو عام کرنے کیلئے لیڈروں کی تنقید کی اور کہا کہ ان پر بحث میڈیا میں نہیں، سی ڈبلیو سی میں ہونی چاہئے - راہل گاندھی نے کہا کہ سونیا گاندھی صدر کا عہدہ سنبھالنے کی خواہشمند نہیں تھیں - لیکن پھر پارٹی لیڈروں کے مطالبہ پر وہ راضی ہوئیں - اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے وقت میں پارٹی لیڈروں کے ذریعہ ان پر سوال اٹھانا صحیح ہے، جب ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہ رہی ہے -

غلام نبی آزاد کا موقف: سینئر کانگریس رہنما اور راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کی طرف سے سی ڈبلیو سی نے استعفیٰ دینے کی پیشکش اور بعد میں اس سے مکرجانا اس بات کا مظہر ہے کہ کانگریس میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے- راہل گاندھی کی طرف سے سینئر رہنماؤں کو جس طرز سے مخاطب کیا گیا اس پر بڑے بڑے رہنماؤں کا برہم ہونا اپنی جگہ درست ہے تودوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ گاندھی خاندان کو چھوڑ کر ایسا کوئی رہنما فی الوقت نظر نہیں آرہا ہے جو کانگریس کی صدارت سنبھال سکے-

قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیوں؟

1-پارٹی کی بنیاد سکڑ رہی ہے: سونیا گاندھی 2014 کے انتخابات میں صدر تھیں - اس انتخاب میں کانگریس کو اپنی تاریخ کی سب سے کم 44 نشستیں ملیں - 2019 کے انتخابات کے دوران راہل گاندھی صدر تھے- پارٹی صرف 52 سیٹیں جیت سکی-

2- کیڈر کمزور: ملک میں کانگریس کا کیڈر کمزور ہوا ہے- 2010 تک، جہاں پارٹی کے ممبروں کی تعداد 4 کروڑ تھی، اب یہگھٹکر ایک کروڑ سے بھی کم ہوگئی ہے- مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور منی پور سمیت دیگر ریاستوں میں، کانگریس میں قائدین کی کھینچ تان پارٹی کارکنوں پر اثرانداز ہوئی ہے-

3-صرف 6 ریاستوں میں کانگریس کی حکومت: چھتیس گڑھ، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت بچی ہوئی-


Share: